نئی دہلی، 29 جون (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے دعویٰ کیاہے کہ سندیسرا برادران کی طرف سے کیا گیا گھوٹالہ پی این بی گھوٹالے سے بھی بڑا ہے۔ ای ڈی کے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیاکہ اسٹرلنگ بایڈٹیک لمیٹڈ / سندیسرا گروپ اور اس کے پروموٹر نتن سندیسرا، چیتن سندیسرا اور دیپتی سندیسرا نے ہندوستانی بینکوں کو 14 ہزار 500 کروڑ سے زیادہ کا چونا لگایا ہے۔جبکہ نیرومودی نے 11 ہزار 400 کروڑ روپے کا بینک گھوٹالہ کیا ہے۔اس معاملے میں اکتوبر 2017 میں سی بی آئی کی ایف آئی آر کے بعد ای ڈی نے اس معاملے میں مقدمہ درج کیا۔غور طلب ہے کہ اسٹرلنگ بیوٹیک کے مالک سندیسرا برادران چیتن جینتی لال سندیسرا اور نتن جینتی لال سندیسرا پر فرضی کمپنیاں بناکر بینکوں سے لون لینے کا الزام ہے۔سندیسرا برادران کے خلاف سی بی آئی نے 5700 کروڑ روپے کی دھوکہ دہی کا معاملہ درج کیا تھا۔اس معاملے میں اسٹرلنگ بایڈٹیک کے ساتھ ہی کمپنی کے ڈائریکٹرز ذی جینتی لال سندیسرا، پرتیبھا چیتن سندیسرا، راجبھوش اوم پرکاش دکشت، نتن جینتی لال سندیسرا اور ولاس جوشی، سی اے ہیمنت گرگ وغیرہ کو ملزم بنایا گیا تھا۔فرار چل رہے سندیسرا برادران کے خلاف ای ڈی کے مطابق لک آؤٹ نوٹس بھی جاری ہوا تھا۔سی بی آئی کی ایف آئی آر کے مطابق سندیسرا برادران کی کمپنی اسٹرلنگ بایڈٹیک نے آندھرا بینک کی قیادت والے بینکوں کے یونین سے 5000 کروڑ روپے قرض لئے تھے، جنہیں چکایا نہیں گیا۔یہ این پی اے بن گیا۔سندیسرا برادران کے کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر اور سینئر لیڈر احمد پٹیل کے قریبی ہونے کا الزام لگتا رہا ہے۔پٹیل کے بیٹے فیصل پٹیل اور داماد عرفان صدیقی اسٹرلنگ بایڈٹیک میں شامل بتائے جاتے ہیں۔کمپنی کا پتہ بھی احمد پٹیل کی رہائش گاہ کا بتایا جاتا ہے۔کمپنی کے سارے لین دین اسی پتے سے ہوتے تھے۔ای ڈی نے احمد پٹیل کے بیٹے اور داماد کو بھی ملزم بنایا تھا۔سندیسرا برادران کہاں ہیں، یہ پتہ نہیں چل سکا ہے۔ایسے وقت میں جب حکومت نیرو مودی اور میہل چوکسی کی حوالگی کی کوشش میں مصروف ہے، سندیسرا برادران کا پتہ لگانا بھی بڑا چیلنج ہے۔